ایک کسان کا بیل ایک پرانے اور خشک کنویں میں گر گیا۔ کسان نے کنویں کی گہرائی دیکھی اور اندازہ لگایا کہ بیل کو باہر نکالنا ناممکن ہے۔ بیل بھی مسلسل ڈر اور خوف سے چِلا رہا تھا۔کافی سوچ بچار کے بعد کسان نے فیصلہ کیا کہ بیل اب بوڑھا ہو چکا ہے، اس لیے اسے زندہ کنویں میں دفن کر دینا ہی بہتر ہے تاکہ مزید وقت اور محنت ضائع نہ ہو۔ اس نے اپنے پڑوسیوں کی مدد سے کنویں میں مٹی پھینکنا شروع کر دی۔بیل کو جب اندازہ ہوا کہ اس کے ساتھ کیا ہو رہا ہے، تو وہ پہلے سے زیادہ زور زور سے چلایا اور رویا۔ لیکن پھر اچانک وہ بالکل خاموش ہو گیا۔کسان نے کنویں میں جھانکا تو وہ یہ دیکھ کر دنگ رہ گیا کہ جیسے ہی اوپر سے مٹی گرتی، بیل اپنے جسم کو جھٹک کر مٹی کو نیچے گرا دیتا اور اس کے اوپر کھڑا ہو جاتا۔ جب اوپر سے مزید مٹی گرتی، بیل اسے پھر جھٹک دیتا اور ایک قدم اور اوپر آ جاتا۔اس عمل کو دہراتے ہوئے بیل نے کنویں کی تہہ کو مٹی سے بھر دیا اور آہستہ آہستہ چلتے چلتے کنویں کے کنارے تک پہنچ گیا۔ کسان اور اس کے ساتھی یہ معجزہ دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آخرکار بیل نے کنویں سے باہر چھلانگ لگائی اور وہاں سے بھاگ نکلا۔سبق:زندگی بھی اسی کنویں کی طرح ہے اور اس میں گرنے والی مٹی ہمارے مسائل، ناکامیوں اور پریشانیوں کی مانند ہے۔ جب بھی آپ پر مشکلات کا پہاڑ ٹوٹے یا لوگ آپ پر کیچڑ اچھالیں، تو گھبرانے یا ہار ماننے کے بجائے اس مٹی (پریشانی) کو اپنے پاؤں تلے روندیں۔ ہر مشکل کو اپنے قدموں تلے کچل کر خود کو اوپر اٹھانے کی سیڑھی بنائیں، کیونکہ کامیابی ہمیشہ صبر، حوصلے اور مسلسل کوششوں سے ہی ملتی ہے۔